چھاتی کا سرطان اورمریضہ کی دماغی الجھن

ایشیائی ممالک کی نسبت پاکستان میں بریسٹ کینسر، یعنی چھاتی کے سرطان، کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں سالانہ 83،000 واقعات رپورٹ ہورہے ہیں لیکن کئی اداروں کے معلوماتی کیمپین چلانے کے باوجود،  بریسٹ کینسر کی پہلی سٹیج پر تشخیص چار فیصد سے بھی کم ہے۔ جہاں دنیا بھر میں اس مرض میں اضافہ ہوا ہے وہیں جدید طبی اور جراحی علاج کے زریعے اموات میں کمی بھی نظر آئی ہے۔ کیمو تھراپی ،ریڈیشن تھراپی اورماسٹیکٹومی یعنی چھاتی کو مکمل طور پر کاٹ دینے جیسے طریقوں سے مریضہ کی جان تو بچ جاتی ہے مگر یہ اکثر سخت طریقے ہوتے ہیں اور مزید جسمانی و نفسیاتی نقصانات کو جنم دیتے ہیں۔ جیسے کہ بالوں کا مکمل یا جزوی طور پر جھڑ جانا، وزن کا بڑھنا، نوجوان خواتین کا بانجھ ہو جانا، ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرنا، ناخن اور جلد کی رنگت تبدیل ہونا وغیرہ ۔ یہ سب مسائل بظاہر جسمانی تصور کیے جاتے ہیں لیکن ان کا ایک گہرا اور منفی اثر عورت کی نفسیات پر بھی ہوتا ہے ۔ جہاں کسی بھی سرطان کے مریض کے ذہن پر اپنے مرض اور عنقریب موت کے امکان سے ایک برا اثر پڑتا ہے وہاں ایک عورت جو اپنا نسوانی حسن بھی کھو دیتی ہے وہ مزید متاثر ہوتی ہے اور ایک منفی جسمانی شبیہ (باڈی امیج) کا شکار ہو سکتی ہے۔

جسمانی شبیہ (باڈی امیج) سے مراد انسان کے اپنے جسم  کے متعلق خیالات اور احساسات پر مبنی تصورہے۔ جو اس طرح کے علاج کے بعد ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے بدل جاتا ہے، اور عورت اپنے آپ کو منفی نظر سے دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ ہم اپنے جسم کو جس نظ سے دیکھتے ہیں ویسے ہی تصورات دماغ میں بناتے ہیں ۔ جب عورت اپنے جسم اور خاص طور سے اپنے نسوانی حسن میں خامیاں دیکھتی ہے تو وہ شرمندہ اور خود کو بے بس محسوس کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کی خود اعتمادی میں کمی آتی ہے ۔ وہ سوچنے لگتی ہے کہ اس کے متعلق دوسرے کیا گمان کرتے ہونگے لہٰزا وہ ڈپریشن جیسے مسائل کا شکار ہو سکتی ہے۔ ایسے میں وہ  لوگوں کا سامنا کرنے سے کترانا اور ان سے ملنا جلنا چھوڑ سکتی ہے ۔ وہ  ایسے ملبوسات کا انتخاب کرنے لگتی ہے جن سے اس کے جسم میں آنے والی تبدیلیاں چھپ سکیں۔ اس رویہ کا اثر نہ صرف عورت کے خود سے تعلق پر پڑتا ہے بلکہ آس پاس کے  لوگوں پربھی  ہوتا ہے اور اسکے ازدواجی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہمیشہ خاوند کی جانب سےعدم تعاون ہو۔ اکثر عورت کے اپنے اندر کے گمان بھی منفی رویہ پیدا کر سکتے ہیں جیسے کہ یہ سوچنا کہ شاید اب وہ اپنے شوہر کے لیے پہلے کی طرح پرکشش نہیں رہی اور اب اپنے شوہر کی جنسی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی۔ ان سارے مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کینسر کے علاج کے دوران نفسیاتی پہلوؤں کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ مزید یہ کہ خواتین سے جڑے مسائل کے بارے میں بات کرنا ہمارے معاشرے میں کافی حد تک ممنوع سمجھا جاتا ہے اس لیئے خواتین اپنے مسائل کھل کر بیان کرنے سے کتراتی ہیں۔  

خوش آئند بات یہ ہے کہ تھوڑی سی توجہ اور مشق سے اس طرح کے خیالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے تو جیسے ہی کوئی منفی خیال دماغ میں آئے اسی وقت اس کو رد کر کے یہ سوچا جائے کہ یہ سب تبدیلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک جان لیوا مرض کے خلاف جنگ جیتی جا چکی ہے۔ اگر سرطان کی مریضہ اپنے آپ کو مصروف رکھیں اور اپنی زندگی کی کامیابیوں کو اپنے دماغ میں دہرایں تو بھی ان کی سوچ میں بہتری آسکتی ہے ۔ مزید یہ کہ اگر وہ اچھی غذا اور ورزش کو معمول کا حصہ بنائیں تو نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ اپنی باڈی امیج کے تصور میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی۔ اس کے لیئے اگر کسی سرجن، اسٹائلسٹ یا ماہرِ نفسیات کے پاس جانے سے مدد مل سکتی ہے تو اس میں کوئی عار نہیں بلکہ یہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔  

چناچہ کوئی بھی کینسر، خاص طور سے چھاتی کا، بھلے عورت کے ظاہری حسن کو ماند کر دے لیکن اس کی آنکھوں کی چمک ، اسکی مسکراہٹ اور اس کی خود اعتمادی ایسی خوبیاں ہیں جو اسے ہمیشہ خوبصورت بنائے رکھیں گی۔ ایک اچھی اور بھرپور زندگی گزارنے کے لیئے یہ اندرونی خوبصورتی، نسوانی حسن سے کہیں زیادہ معنی رکھتی ہے۔ عورت جتنا جلدی اس بات کو سمجھ جائے گی اتنا ہی اسکے لیئے باقی کی زندگی گزارنا آسان ہو جائے گا ۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Share this post

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related posts