پاکستانی خواتین اور گھریلو تشدد

دنیا بھر میں عورت کے ساتھ جذباتی، نفسیاتی،  مالی،  جسمانی اور جنسی تشدد کا مسئلہ بہت وسیع اور اہم ہے ۔  تاہم ،  تھامسن  رائٹرز  فاؤنڈیشن  کے ایک سروے میں  چند حقائق کی بنیاد پر پاکستان کو خواتین کے لیئے  دنیا کے خطرناک ترین ممالک  میں شمار کیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ پاکستان میں ہر دو گھنٹے بعد ایک عورت جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے اور دنیا بھر میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی خواتین کا پانچواں حصہ پاکستانی خواتین پر مشتمل ہے۔  ساتھ ہی  ایک اور  سنگین  مسئلہ  گھریلو  جسمانی  تشدد کا ہے جس کا نشانہ پچاس فیصد سے زیادہ  پاکستانی خواتین کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں بنتی ہیں اور جس کی وجہ سے ہر سال  ہزاروں  خواتین  ہلاک اور معذور کر دی جاتی ہیں۔

گھریلو تشدد سے مراد ہر وہ (جسمانی، جذباتی،  نفسیاتی اور مالی) عمل ہے جس سے ایک انسان اپنی طاقت کی بنیاد پر دوسرے انسان پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے ۔  اکثر اوقات  بات  جذباتی،  نفسیاتی اور مالی بد سلوکی سے شروع ہو کر جسمانی تشدد تک جا پہنچتی ہے کیونکہ بروقت نہ تو خاتون کو اندازہ ہوپاتا ہے اور نہ ہی دوست رشتہ دار کچھ بولتے ہیں۔  ایک  ریسرچ کے مطابق  تشدد کی شکار پاکستانی خواتین کی ایک بڑی تعداد یا تو اس  بات پر یقین کرتی ہے کہ  بحث کرنے پر مرد انکی پٹائی کر سکتا ہے یا پھر انھوں نے بچپن میں اپنی ماں کو بھی روز مرہ طور پہ پٹتے دیکھا ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جسے اکثر عوام  گھر کا ذاتی مسئلہ تصور کر تے  ہیں اور  اسے روکنے کو  ذاتی معاملات میں مداخلت کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں ۔ چناچہ   گزرتے  وقت کے ساتھ یہ مسئلہ سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے جس کا ثبوت حالیہ دل دہلا دینے والے واقعات ہیں۔

 یہ خیال غلط ہے کہ گھریلو تشدد محض کسی  حرکت کا  فوری ردِعمل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس یہ مختلف مراحل پر مشتمل ایک سائیکل  ہے۔ اس کی شروعات معمولی  باتوں پر غصہ کرنے، ڈرانے، دھمکانے یا  خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچانے سے ہوتی ہے ۔ اگلے مراحل  میں عورت کی بے عزتی  کر کے اور اس کا مذاق  اڑا کر اس کو احساسِ کمتری  کا شکار کیاجاتا ہے ۔عورت پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے اس  پر شک  اور اس کی جاسوسی  بھی کی جاسکتی ہے اور اس کو اپنی مرضی سے کام کرنے، پیسہ کمانے اور آنے جانے پہ روک ٹوک بھی لگائی جا سکتی ہے ۔  اگر عورت  مزاحمت کرے تو اسے جسمانی تشدد کا  نشانہ  بنایا  جاتا ہے۔ فعل کے بعد شرمندہ ہو کر معذرت کی جاتی ہے اور واقع  کا ذمے دار بھی اسی خاتون کو ٹھہرایا جاتا ہے کہ اس نے ایسا کرنے پر  مجبور کیا۔  پھر  کچھ دن گزرتے ہی  دوبارہ  وہی چکر  دہرایا جاتا ہے۔ اس  چکر  کے بار بار دہرائے جانے سے عورت معاشی، جذباتی اور نفسیاتی جال میں پھنس جاتی ہے اور اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہے ۔ وہ  خود کو ہی مجرم سمجھنے لگتی ہےاور اپنے آپ  کو  گھر کےکسی معاملے میں  رائےدینے یا فیصلہ سازی کے لائق سمجھنا چھوڑ دیتی ہے۔ جس کے منفی اثرات اس کے بچوں اور پورے کنبہ پر پڑتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق جو  بچے ایسے خوف زدہ ماحول میں پرورش پاتے ہیں وہ مستقبل میں اسی طاقت اور کنٹرول کی سائیکل کو دوسروں کے ساتھ دہرا سکتے ہیں۔

اس جرم کی روک تھام کے لیے  پارلیمنٹ میں متعدد بل پاس کیئے جا چکے ہیں ۔ آئینِ پاکستان میں بھی خواتین کے تحفظ کی متعدد شقیں موجود ہیں۔ اس کے باوجود جرم میں کمی نظر نہیں آرہی ۔ بلکہ کورونا کے بعد سے تو ان کیسز میں مذید اضافہ ہوگیا ہے ۔ اس کی  بڑی وجہ  خواتین کی اپنے حقوق سے لاعلمی ہے۔جان  جانےکے خطرات ہونے کے باوجو د بھی کوئی قدم اٹھانےسے گریز کرتی ہیں ۔ان کے خیال میں تکلیف اور دکھ برداشت کر کے وہ اپنا  معاشرتی اور مذہبی فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ پاکستان میں 75٪ خواتین  معاشی لحاظ سے کسی نہ کسی  شکل میں مرد سربراہ پر انحصار کرتی ہیں۔  لہٰذا  اگر وہ  اس ماحول سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیں  بھی تو  اپنے اور بچوں کے  اخراجات اٹھانے کے لیے خود کو  مالی طور پر مفلوج سمجھتی ہیں اور ساری زندگی تشدد برداشت کرتی رہتی ہیں۔ کچھ کیسز میں اگر خاتو ن اس  ماحول سے نکلنے کی کوشش کرے تو مرد  کی جانب سے خودکشی  کرنے  یا سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی  جاتی ہے ۔ اس صورت حال میں بھی اگر کوئی خاتون  علیحدگی  کا انتہائی فیصلہ کرلے تو معاشرے کی جانب سے عدم تعاون کا شکار ہو جاتی  ہے۔  ویسے بھی ایک عورت کی جسمانی سالمیت کے لیئے سب سے خطرناک وقت  وہی ہوتا ہے جب وہ مرد سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے لہٰذا وہ اپنی حالیہ  زندگی میں قید رہ کر گھٹ گھٹ کے جینے میں ہی اپنی عافیت سمجھتی  ہے۔

ایسا  نہیں  ہے کہ اس جرم کا  خاتمہ ممکن  ہی نہیں کیونکہ اکثر مرد عادی مجرم نہیں ہوتے۔ خاندانی پس منظر،انتہا پسند  ماحول، مبہم مذہبی عقائد، تیز مزاجی  اور لاعلمی کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ  ذمے دار شہری سے لے کر  غیر تعلیم یافتہ  مزدور تک کوئی بھی شخص اس میں ملوث ہو سکتا ہے۔ اس کے حل کے لیئے معاشرے کا کردار سب سے اہم ہے۔ اگر آپ کے اطراف  میں ایسے لوگ موجود ہیں تو انہیں صلاح دیں کہ وہ  کسی  نفسیات کے ڈاکٹر یا کپل کاؤنسلر سے مشورہ کریں۔ اگر وہ غصے سے بے قابو ہو کر حواس کھو بیٹھتے ہیں تو  انہیں اینگر مینجمنٹ  تھیراپی کی تجویز دیں۔ یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں بلکہ ایک ہنر ہے جو اس شخص کی نہ صرف ذاتی زندگی  کو پر سکون بنائےگا بلکہ پیشہ ورانہ زندگی  کے  لیئے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف متاثرہ خاتون جن  نفسیاتی مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے ، اسے اپنےقریبی دوست و اقارب  کے تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔  اس کا اعتماد جیتیں تا کہ وہ کُھل کر  اپنے مسائل بیان کر سکے اور اس سے ہمیشہ رابطے میں رہیں۔  اس کی تمام باتیں راز رکھیں ۔ کچھ ایسے  کوڈز رکھیں جو ایمرجنسی کے وقت استعمال کیئے جا سکیں ۔ مدد کے لیے فوراً  حکومت  کی ہیلپ لائن  1099 پر اطلاع  دیں ۔ کچھ کیسز میں جہاں عورت کو اپنی جان کا خطرہ  ہو اور اگر وہ اپنے  شوہر سے الگ ہونا چاہے تو اس کی کردار کشی کے بجائے اس کا ساتھ دیں۔ اس طرح  آپ گھریلو تشدد کے باعث  ممکنہ قتل روک سکتے ہیں ۔ اگر ان چند باتوں کا ہی خیال رکھ لیا جائے تب بھی اس جرم میں واضح کمی آسکتی ہے اور پاکستان کو  خواتین کے لیئے  قدرے محفوظ ملک بنایا جا سکتا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Share this post

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related posts