پاکستان اور پائیدار ترقیاتی اہداف

اٹھارہویں صدی کے  صنعتی انقلاب نے زرعی اور دستکاری معیشت کو بڑے پیمانے پر صنعتی معیشت میں تبدیل کر دیا۔ جس کے نتیجے میں  آج صنعتوں میں تیار کردہ پانی کی بوتل سے لے کر اسمارٹ فون جیسی آسائشیں انسان کی زندگی کا عام حصہ بن چکی ہیں۔ دھات اور پلاسٹک سے تیار ہونے والی ان اشیاء  کی قیمت ہم  قدرتی وسائل کی کمی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے معاشی اور ماحولیاتی مسائل کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔  اگر یہی صورتِ حال چند اور دہائیوں تک برقرار رہی تو آنے والی نسلیں قدرتی وسائل سے مکمل طور پر محروم ہو جائیں گی۔ اسی تشویش کے پیشِ نظر 1972ء میں پہلی مرتبہ اقوامِ متحدہ کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ماحولیات اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر  پائیدار  ترقی حاصل کرنے  کے حوالے سے بات ہوئی ۔ 2015 ء میں تمام ممبران ممالک نے 2030  ایجنڈہ کے تحت  17 پائیدار ترقیاتی اہداف  (ایس-ڈی- جی) کو منظور کیا  جن میں غربت و افلاس کا خاتمہ،  اچھی تعلیم اور صحت،  صاف پانی کی فراہمی،  عدل و انصاف ، زمینی اور آبی حیات کے معدوم  ہوجانے  جیسے کئی  مسائل شامل ہیں۔ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے 2016 ء میں 17 ایس-ڈی- جی کو  اپنے قومی ترقیاتی ایجنڈے میں ضم کیا مگر ان اہداف کو حاصل کرنے میں اب تک  ناکام رہا ہے ۔ اقوامِ متحدہ  کے  سالانہ ایس-ڈی- جی  انڈیکس رینکنگ کے مطابق  2016 ء میں  پاکستان  115نمبر  پر تھا جو 2020 ء میں  تنزلی  کے بعد 134 نمبر پر آگیا ۔ ان اہداف کی کامیابی کے لیئے یہ سمجھنا ضروری  ہے کہ تمام مسائل ایک دوسرے سے منسلک ہیں  اورہر  ہدف کی اپنی وسیع اور انفرادی اہمیت ہونے کے  باوجود بھی اسکی کامیابی  کا دارومدار دوسرے اہداف پر منحصر ہے۔

 مثال کے طور پر  ہدف 11 (پائیدارشہر اور کمیونٹی) کے حصول کے لیئے شہروں میں کاروباری مواقع پیدا کرنا ، محفوظ  رہائش فراہم کرنا،  شہری منصوبہ بندی اور انتظام کو بہتر  بنانا وغیرہ شامل  ہیں۔  پاکستان کی آبادی کا 67.5 فیصد گاؤں اور دیہات میں مقیم ہے۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد ہر سال  بہتر تعلیم و صحت اور حصول روزگارکے لیئے اپنے گھر چھوڑ کر کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں کا رخ کرتی ہے،  جو پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی جیسے مسائل کا شکار ہیں ۔ دیہات میں کوئی خاص ترقی کا تو موقع نہیں بن پاتا، مذید یہ کہ بڑے شہروں کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔

Green building – Sustainable cities

 لاہور کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ گلوبل الائنس آن ہیلتھ  اینڈ پالوشن کے مطابق پورے  پاکستان میں فضائی آلودگی صحت عامہ کا بڑا مسئلہ ہے، جس سے ہونے والی بیماریوں سے ہر سال 128000 افراد  ہلاک ہوجاتے ہیں ۔ ان شہروں میں بڑھتی ہوئی  آبادی کے مد نظر بے ترتیب اور اونچی عمارتیں کھڑی ہوتی جا رہی ہیں جو  ہوا کی قدرتی گردش میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں ۔ ساتھ ہی شہر  میں تیزی سے کم ہوتے سبزہ کی وجہ سے درجہِ حرارت اور غیر معمولی بارشوں میں  اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو ہدف 13 ۔ ماحولیاتی تبدیلی، کے لیئے رکاوٹ کا باعث ہے ۔ اور ہدف 3۔  صحت و تندرستی،  کی فراہمی کا تو اس ماحولیاتی آلودگی اور اسپتالوں کی کمی کے سبب کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔  ویسے ہی پچھلی دو دہایوں میں  پاکستان میں کینسر ، ذیابیطس اور دل کے امراض جیسے مہلک امراض عام ہو گئے ہیں اور  اموات کی ایک بڑی وجہ بن گئے ہیں۔ موٹاپا اور سگریٹ نوشی بھی گھر گھر کی کہانی ہیں۔ زچگی کے دوران ماں، بچہ یا دونوں کا گزر جانا بھی اکثر پسماندہ علاقوں میں دیکھا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے  ہدف نمبر 3 (صحت و تندرستی) حاصل کرنا  پاکستان کے لیئے ایک چیلنج  بن چکا  ہے۔

کراچی کے دیہی علاقوں کو بھی تجارتی مفادات کی وجہ سے سنگین حا لات کا سامنا  ہے۔ اس کی زرعی اراضی سکڑ  رہی ہے کیونکہ اس کی تعمیر شدہ  اراضی میں وسعت آتی جارہی ہے۔ تعمیرات کے لیئے پکی سڑکیں اور  ریت کی کان کنی نے پانی کے ذرائع جیسے کہ ملیر ندی کی آب گیری صلاحیت کو کم کردیا ہے  اور آس  پاس کے کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے کیونکہ بارش کا پانی زمین میں جذب نہ ہونے سے  کنویں خشک ہو گئے ہیں ۔ کراچی کو پانی فراہم کرنے کا بنیادی ڈھانچے میں پانی اور سیوریج کی لائنیں ایک دوسرے سے متصل بنائی گئی ہیں  جس کی وجہ سے پینے کے پانی کے ساتھ سیوریج کا پانی اکثر شامل ہو جا تا ہے ۔  اوپر سے کینجھر جیل سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن  کے ذریعے شہر کو فراہم کیا جانے والا  پانی بڑی مقدار میں راستے ہی میں چوری یا ضائع ہو جاتا ہے چناچہ کراچی میں صاف پانی کی فراہمی  متاثر ہوتی ہے  ۔ این -سی -بی- آئی کی رپورٹ کے مطابق گندے پانی سے دھلے برتن  جان لیوا بیماریوں کا باعث بنتے ہیں جبکہ یونیسیف  نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پاکستان میں 38فیصد بچوں کی نشونما  گندا  پانی پینے اور اس سے  نہانے کی   وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ ان تمام مسائل کی وجہ سے  ہدف نمبر 6 ۔ صاف پانی کی فراہمی ،  اور 3 ۔ صحت و تندرستی،  دونوں ہی حاصل کرنا نا ممکن نظر آتے ہیں۔ پھر صنعت کا خارج کردہ پانی گٹر کے پانی کے ساتھ سمندر میں بہا دیا جاتا ہے جو آبی حیات کے لیئے بھی نقصان دہ ہے اور ہدف  14 کے حصول میں رکاوٹ بھی۔

Water shortage in Karachi

ملک کے45 فیصد مزدور طبقے کا تعلق زراعت اور دیہات سے ہے۔ شہروں میں جاری خلافِ ماحول سرگرمیوں کی وجہ سے گاؤں اور دیہات بھی قدرتی آفات کی زد میں رہتے ہیں جیسے کہ 2010 ء میں پاکستان میں مون سون سیلاب نے  بڑے  پیمانے پر  تباہی  مچائی۔   ہزاروں لوگ بے گھر اور بے روز گار ہوئے اور  غربت و افلاس میں اضافہ ہوا  جو کہ ہدف نمبر 1 اور 2 کے حصول کے منافی ہے۔ گاؤں میں اکثر اچھی تعلیم کی فراہمی بھی ایک مسئلہ ہوتی ہے اور بچوں کو دور دراز واقع اسکول جانا پڑتا ہے، اس لیئے کئی والدین چاہنے کے باوجود اپنی بیٹیوں کو تعلیم نہیں دلاتے۔ بڑے ہوکر یہ عورتیں بہت ساری چیزوں جیسے کہ اپنی صحت کے حوالے سے سمجھ بوجھ اور معاشی خود مختاری میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہ اہداف 4 اور 5 یعنی اچھی تعلیم اور مرد عورت کے حقوق میں برابری، حاصل کرنے کے لیئے بڑی رکاوٹیں ہیں ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے تمام  پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنا بہت مشکل ہے لیکن  چند نجی تنظیمیں جیسے کہ عورت  فاؤنڈیشن ، ڈبلیو- ڈبلیو- ایف اور لیڈ،  اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان کو در پیش مسائل حل کرنے کے لیئے کام کر رہی  ہیں ۔ ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کے لیئے حکومت بھی کوشاں ہے ۔  ہر پاکستانی کو بطور ذمے دار شہری اپنی ذاتی کوشش کے ساتھ ساتھ ان تنظیموں،  حکومت، ارد گرد کے ضلع ، شہر اور صوبہ کے ذمہ داران کا بھی ساتھ دینا چاہیئے اور ان کو ذمہ دار بھی ٹھہرانا  چاہیئے تاکہ ترقی کی رفتار میں اضافہ ہو اور آنے  والی نسلوں کے لیئے ایک بہتر مستقبل  تشکیل دیا جا سکے۔

2 thoughts on “پاکستان اور پائیدار ترقیاتی اہداف”

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Share this post

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related posts