دفتر میں جذباتی ذہانت کی اہمیت

دفتر میں جذباتی ذہانت کی اہمیت

ماضی میں جذبات اور ذہانت کو ایک دوسرے کے مخالف سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، حالیہ دہائیوں میں جذباتی ذہانت کا موضوع محققین کے نزدیک کافی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ڈینیئل گولمین وہ پہلا شخص تھا جس نے ماہرین نفسیات پیٹر سلووی اور جان مائر کی تحقیق پر مبنی اپنی کتاب میں استدلال کیا  کہ انسان کی کامیابی میں عقل کا  انحصار صرف ٪20 ہے ۔ انسان کا صرف دماغی طور پر ذہین ہونا زندگی میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہے اور اکثر اوقات جذباتی ذہانت بھی ایک بڑا کردار ادا کرتی ہے ۔

اپنےاور دوسروں کے جذبات کو پہچاننے اور سمجھنے کی صلاحیت کو جذباتی ذہانت کہا جاتا ہے ۔ پچھلے چند برسوں میں اس کو وسیع پیمانے پر ایک قابل قدر مہارت کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔ سلووی اور مائر کے مطابق جذباتی ذہانت کے چار مختلف پہلو ہیں۔

ا۔ احساسات کو سمجھنا

ب۔ جذبات کا ادراک کرنا

ج۔ جذبات کی منطق کو سمجھنا

د۔ جذبات کو منظم کرنا

پیشہ ورانہ زندگی میں جذباتی طور پر ذہین ہونا نہ صرف کمپنی کے سربراہان اور منیجرز کی کامیابی کے لیئے ضروری ہے بلکہ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جو کسی بھی فرد  کے لیئے اس کے پیشہ کی ہر سطح پر اہمیت رکھتی ہے۔  انٹرنشپ تلاش کرنے والے کالج کے طلباء سے لے کر تجربہ کار ملازمین تک ہر فرد کے لیئے یہ یکساں اہمیت کی حامل ہے ۔

یہ صلاحیت انسان کو بہتر فیصلے کرنے مسائل حل کرنے، باہمی تبادلہ خیال، نظم و نسق اور دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے کی سمجھ بوجھ دیتی ہے۔ جذباتی طور پر ذہین افراد بہتر فیصلے کرنے اور تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ شدید دباؤ میں بھی پر سکون رہنا جانتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔ ایسے لوگ سننے اور غور کرنے کے ساتھ ساتھ  تعمیری تنقید سے مثبت سبق بھی لیتے ہیں۔

اس کے برعکس وہ افراد جو اپنی جذباتی ذہانت کا استعمال تھوڑا کم یا مشکل سے کر پاتے ہیں وہ اپنی غلطیوں کی ذمہ داری لینے اور بطور ٹیم کام کرنے سے کتراتے ہیں اور اکثر تنازعات کا شکار رہتے ہیں ۔ اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان میں دوسروں کی رائے پر غور کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور وہ زندگی بھر اپنے اکیلے پن سے الجھے رہتے ہیں۔

کم جذباتی ذہانت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ تھوڑی سی محنت سے آپ اپنے دفتر اور روز مرہ کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اپنے جذبات کو پہچاننے کی مشق کریں اور خود آگاہی پیدا کریں۔ ان احساسات کے اسباب جاننے کی کوشش کریں جو آپ کے لیئے مسائل کی وجہ بنتے ہیں۔ اپنے اندر خود ضابطگی پیدا کریں تا کہ خود کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق  بہتر طور پر ڈھال سکیں۔ ساتھی ملازمین کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرنے کے لیئے ان کے نظریات کو موثر انداز میں سمجھنے کی کوشش کریں، ان کی باتوں کو پرسکون رہ کر غور سے سنیں اور اپنی رائے دینے کے لیے موزوں وقت کا انتظار کریں۔

اعلیٰ عہدوں پر فائز مینیجران کو بھی چاہئیے کہ وہ اپنے ماتحت ملازمین کی ضروریات اور حالات کا تعین کرتے ہوئے اپنے رویوں میں تھوڑی لچک پیدا کریں۔ اپنے ماتحتوں کے جذبات کو بہتر سمجھنے سے وہ ایک ایسا ماحول بنا سکیں گے جو ملازمین کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیئے حوصلہ افزاء ثابت ہو اور ان کی تخلیقی صلاحیتں کھل کر سامنے آسکیں ۔

جذباتی ذہانت کی نشوونما میں انسان کا ماحول اور اس کی شخصیت کلیدی کردار ادا تو کرتے ہیں، لیکن یہ ایک ایسی صلاحیت ہے جسے مشق اور محنت کے ذریعے  بہتر کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے۔ ہمارے ماہرین کی مدد سے  آپ  اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں نظم و نسق لا سکتے اور سماجی شعور بہتر کر سکتے ہیں۔ مزید براں یہ کہ آپ کو غیر متوقع حالات میں مثبت اور موثر طریقے سے تبادلہ خیال کرنے اور تنازعات کو حل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ہم سے رجوع کرنے کے لیئے یہاں کلک کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.

Share this post

Facebook
Twitter
LinkedIn
WhatsApp

Related posts